📰

ایف بی آر ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) 2026: ایس ایم ایس کے ذریعے اسٹیٹس چیک کرنے کا طریقہ اور لیٹ فائلنگ پر سرچارج

شیئر اور پرنٹ:

جائزہ اور ریگولیٹری فریم ورک

ایف بی آر کی 'ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ' (ATL) ان افراد اور کاروباروں کی فہرست ہے جنہوں نے گزشتہ ٹیکس سال کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروائے ہیں۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت، ایکٹو ٹیکس پیئر ہونے کے فوائد میں بینکنگ لین دین، گاڑیوں کی خریداری، اور جائیداد کی منتقلی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی کم شرح شامل ہے۔ ایف بی آر اس فہرست کو ہر ہفتے اپ ڈیٹ کرتا ہے۔

لیٹ فائلنگ سرچارج کا جدول

کیٹیگریانفرادی سرچارجAOP سرچارجکمپنی سرچارج
لیٹ فائلنگ1,000 روپے10,000 روپے20,000 روپے

اہلیت کا معیار

  • شناختی کارڈ یا نائیکوپ (NICOP) کا ہونا لازمی ہے۔
  • متعلقہ سال کے انکم ٹیکس گوشوارے آئرس (Iris) پورٹل کے ذریعے جمع ہوں۔
  • ویلتھ سٹیٹمنٹ کا گوشواروں کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔
  • لیٹ فائلنگ جرمانہ مکمل ادا کیا گیا ہو۔

عملدرآمد کا طریقہ کار

  1. ایف بی آر کے آئرس پورٹل پر لاگ ان کریں۔
  2. اگر ریٹرن جمع نہیں کروایا تو اسے آن لائن فائل کریں۔
  3. اگر آخری تاریخ گزر چکی ہے تو PSID جنریٹ کر کے جرمانہ ادا کریں۔
  4. جرمانہ ادا کرنے کے بعد آپ کا نام اگلے ہفتے کی اپ ڈیٹ میں شامل ہو جائے گا۔
  5. ایس ایم ایس کے ذریعے تصدیق کے لیے 9966 پر اپنا CNIC بھیجیں۔

درکار دستاویزات

  • 13 ہندسوں کا قومی شناختی کارڈ نمبر۔
  • آئرس پورٹل کا یوزر آئی ڈی اور پاس ورڈ۔
  • جرمانہ ادائیگی کا چالان (اگر لاگو ہو)۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ)

گوشوارے جمع کروانے کے کتنے عرصے بعد نام ATL میں آتا ہے؟

عام طور پر ایف بی آر ہر پیر کو فہرست اپ ڈیٹ کرتا ہے۔ گوشوارے پراسیس ہونے کے بعد آپ کا نام اگلے ہفتے کی لسٹ میں آ جائے گا۔

کیا بغیر لاگ ان کیے سٹیٹس چیک کیا جا سکتا ہے؟

جی ہاں، آپ 9966 پر 'ATL [خلا] شناختی کارڈ نمبر' بھیج کر فوری اسٹیٹس جان سکتے ہیں۔

نان فائلر ہونے کے نقصانات کیا ہیں؟

نان فائلرز کو بینکنگ ٹرانزیکشنز، گاڑیوں اور جائیداد کی خریداری پر دگنا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری سیلری کیلکولیٹر سروس سے اپنی ٹیکس کٹوتی چیک کریں۔

💰

اپنی نئی تنخواہ اور الاؤنسز معلوم کریں

بجٹ 2026 کے بعد اپنے بنیادی پے اسکیل (BPS 1-22)، ہاؤس رینٹ، میڈیکل اور کنوینس الاؤنس کے ساتھ گھر لے جانے والی کل تنخواہ کا حساب لگائیں۔

یہ مضمون انگریزی میں بھی دستیاب ہے۔ Read in English →