📰

سعودی عرب کا ایک سالہ ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا 2026: مدت، قواعد اور درخواست کا طریقہ

سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ نے ایک سالہ ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا متعارف کرایا ہے — یہ اُن عازمین کے لیے بڑی سہولت ہے جو سال میں ایک سے زیادہ بار عمرہ کرنا چاہتے ہیں اور ہر بار نیا ویزا نہیں لینا چاہتے۔

نمایاں خصوصیات

  • مدت: جاری ہونے کی تاریخ سے 365 دن۔
  • متعدد انٹریاں: ایک ہی ویزے پر سال بھر میں کئی بار سعودی عرب آ اور جا سکتے ہیں۔
  • کل قیام: مجموعی طور پر 90 دن تک — یہ تمام سفروں کا مجموعہ ہے، فی سفر 90 دن نہیں۔
  • مقصد: عمرہ، مسجدِ نبویؐ کی زیارت اور سعودی عرب میں سیاحت۔
  • اہم پابندی: یہ ویزا حج کے سیزن میں داخلے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔

یہ کن کے لیے بہترین ہے؟

یہ اُن لوگوں کے لیے موزوں ہے جو سال میں کئی بار عمرہ کا ارادہ رکھتے ہیں — مثلاً خلیجی ممالک میں کام کرنے والے تارکینِ وطن۔ اگر آپ صرف ایک بار عمرہ کرنا چاہتے ہیں تو عام سنگل انٹری عمرہ ویزا زیادہ آسان رہے گا۔

درخواست کا طریقہ

  1. سعودی عرب کے سرکاری پلیٹ فارم نسک (Nusuk) پر اکاؤنٹ بنائیں۔
  2. ملٹی پل انٹری عمرہ ویزے کے لیے درخواست دیں اور تفصیلات مکمل کریں۔
  3. ہر انٹری کے لیے سفر سے پہلے نسک کے ذریعے منظور شدہ سروس پیکج (رہائش/ٹرانسپورٹ) خریدیں۔
  4. منظوری کے بعد ویزا ڈیجیٹل طور پر مل جائے گا اور آپ 365 دن کے دوران اپنے سفر ترتیب دے سکتے ہیں۔

عمرہ ویزا اور ٹورسٹ ویزا میں فرق

یہ ایک سالہ ملٹی پل انٹری ویزا دراصل عمرہ ویزا ہے جو نسک کے ذریعے حاصل ہوتا ہے — یہ ٹورسٹ ای ویزا نہیں۔ پاکستانی مسافروں کے لیے یہ بات اہم ہے: حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ایک سالہ ملٹی پل انٹری ٹورسٹ ویزا کو زیادہ سے زیادہ 30 دن کے سنگل انٹری ویزے سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ کو ابھی ایک سالہ ملٹی پل انٹری آپشن چاہیے تو عمرہ ویزا ہی دیکھیں۔

درخواست سے پہلے مفید مشورے

  • پاسپورٹ کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد ہو۔
  • دنوں کا حساب رکھیں — 90 دن کی حد تمام سفروں کا مجموعہ ہے۔
  • حج کے سیزن کو مدِنظر رکھیں، اس دوران یہ ویزا داخلے کے لیے کارآمد نہیں۔
  • دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے صرف سرکاری نسک پلیٹ فارم استعمال کریں۔

ویزا پالیسیاں اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ درخواست یا بکنگ سے پہلے تازہ ترین قواعد و فیس کی تصدیق سرکاری نسک پلیٹ فارم یا سعودی حکام سے ضرور کریں۔

یہ مضمون انگریزی میں بھی دستیاب ہے۔ Read in English →