🌟

ایاز لطیف پلیجو

وکیل، سیاستدان اور مصنف

ایاز لطیف پلیجو

ایاز لطیف پلیجو سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی وکیل، قوم پرست سیاستدان، مصنف اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ 15 نومبر 1968ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ اپنی عوامی زندگی کا بیشتر حصہ انہوں نے سندھ کے عوام کے حقوق، شہری آزادیوں اور جمہوری اصلاحات کی وکالت میں گزارا ہے۔

خاندان اور ابتدائی زندگی

ایاز لطیف پلیجو سندھ کے معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد رسول بخش پلیجو ایک دانشور، مصنف اور عوامی تحریک کے بانی تھے، جبکہ ان کی والدہ جیجی زرینہ بلوچ ایک نامور لوک گلوکارہ اور خواتین کے حقوق کی علمبردار تھیں۔ اسی ماحول میں پرورش پانے کے باعث وہ کم عمری میں ہی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بن گئے۔

تعلیم

انہوں نے غیر معمولی طور پر وسیع تعلیم حاصل کی۔ پہلے مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے سول انجینئرنگ کی، پھر سندھ یونیورسٹی جامشورو سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے LEAD پروگرام کے تحت ماحولیات و ترقی میں تعلیم حاصل کی اور برطانیہ کے وائے کالج سے دیہی ترقی میں ماسٹرز کیا۔ سندھی، اردو اور بلوچی کے علاوہ وہ انگریزی، سرائیکی، پنجابی اور فارسی سے بھی واقف ہیں۔

قانونی کیریئر

پلیجو سندھ ہائی کورٹ کے آئینی اور انسانی حقوق کے وکیل ہیں۔ انہوں نے پسماندہ طبقات کے حق میں متعدد عوامی مفاد کے مقدمات لڑے، جن میں جبری مشقت، چائلڈ لیبر، خواتین اور اقلیتوں پر تشدد، غیرت کے نام پر قتل اور قیدیوں کے حقوق جیسے مسائل شامل ہیں۔ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی تحریک میں بھی سرگرم رہے۔

سیاسی کیریئر

پلیجو قومی عوامی تحریک کے صدر ہیں۔ انہوں نے سندھ پروگریسو نیشنلسٹ الائنس کی بنیاد رکھی اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے بانی رہنماؤں اور سیکریٹری جنرل میں شامل رہے۔ صوبائی خودمختاری کے حامی کے طور پر انہوں نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی اور کالا باغ ڈیم کے خلاف مہم چلائی۔ 2012ء میں انہوں نے کراچی سے اسلام آباد تک تین روزہ "محبتِ سندھ" ٹرین مارچ کی قیادت کی، اور 2013ء کے عام انتخابات میں قاسم آباد، حیدرآباد سے انتخاب لڑا۔

مصنف اور عوامی آواز

قانون اور سیاست کے علاوہ پلیجو چھ کتابوں کے مصنف ہیں اور انہوں نے سندھ کی تاریخ، سیاست اور سماجی مسائل پر سینکڑوں اخباری کالم لکھے ہیں۔ وہ پانی کی قلت، بچوں کے تحفظ اور اقلیتی لڑکیوں کی جبری تبدیلیِ مذہب جیسے مسائل پر مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ سوانح انگریزی میں بھی دستیاب ہے۔ Read in English →