حکومت نے تازہ پندرہ روزہ نظرثانی میں ایک بار پھر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جو یکم جولائی 2026 سے نافذ ہے۔ پٹرول اب 310.71 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل 323.30 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے — بالترتیب 13.18 روپے اور 13.80 روپے کا اضافہ۔ خاص بات یہ ہے کہ عالمی قیمتیں کم ہونے کے باوجود یہ اضافہ ہوا، کیونکہ اس کی بڑی وجہ عالمی خام تیل کے بجائے زیادہ پٹرولیم لیوی ہے۔
نئی قیمتیں ایک نظر میں
| ایندھن | سابقہ قیمت | نئی قیمت | اضافہ |
|---|---|---|---|
| پٹرول | 297.53 | 310.71 | 13.18+ |
| ہائی سپیڈ ڈیزل | 309.50 | 323.30 | 13.80+ |
قیمتیں کیوں بڑھیں؟
بنیادی وجہ پٹرولیم لیوی ہے۔ حکومت نے پٹرول پر لیوی بڑھا کر بجٹ میں مقرر کردہ حد 80 روپے فی لیٹر تک پہنچا دی ہے۔ چونکہ اس مرتبہ عالمی قیمتیں کم تھیں، عوام کو ریلیف نہیں ملا بلکہ ممکنہ بچت زیادہ لیوی نے جذب کر لی۔ یہ ایک سوچی سمجھی مالیاتی حکمتِ عملی ہے، کیونکہ لیوی وفاقی محصولات کا بڑا ذریعہ ہے اور اسے بڑھانے سے حکومت کو آئی ایم ایف اہداف پورے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
عام آدمی پر اثرات
ڈیزل قیمتوں پر سب سے زیادہ اثر ڈالتا ہے۔ ڈیزل ٹرک، بس، ٹریکٹر اور مال بردار گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کا اضافہ تقریباً ہر چیز کی قیمت پر جلد اثر ڈالتا ہے:
- ٹرانسپورٹ کرایے — بین الشہری بسوں، رکشہ اور رائیڈ ہیلنگ کے کرائے چند دنوں میں بڑھ جاتے ہیں۔
- خوراک و اشیائے ضرورت — مال برداری مہنگی ہونے سے سبزیوں، آٹے اور روزمرہ اشیا کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔
- زراعت — ڈیزل ٹریکٹر اور ٹیوب ویل پر انحصار کرنے والے کسانوں کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
- گھریلو بجٹ — مہنگائی میں اضافے سے عام خاندانوں پر براہِ راست بوجھ پڑتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا جائزہ ہر پندرہ دن (تقریباً یکم اور 16 تاریخ) کو عالمی قیمتوں، روپے کی قدر اور لیوی کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اگلے جائزے میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ درست سرکاری قیمتوں کے لیے ہمیشہ اوگرا کا نوٹیفکیشن دیکھیں۔
اس مضمون میں دی گئی قیمتیں یکم جولائی 2026 کی نظرثانی کے مطابق ہیں اور اگلے جائزے میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔